علامہ محمد اقبال اردو ادب کے عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری جہاں فکری گہرائی اور فلسفیانہ بصیرت کی حامل ہے، وہیں بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں میں سادگی، دل کشی، اخلاقی تربیت اور بلند حوصلگی کا پیغام بھی ملتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں بشریٰ رحمن نے اقبال کی بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں کے موضوعات، فنی خصوصیات اور تعلیمی و تربیتی اہمیت کا جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ مطالعہ بچوں کی شاعری کے حوالے سے اقبال کی ادبی خدمات کو سمجھنے میں معاون ہے۔
بشریٰ رحمن(ریسرچ اسکالر،حیدرآباد)
علامہ محمد اقبال کی بچوں کے لیے شاعری اردو ادبِ اطفال کا اہم حصہ ہے۔ ان نظموں پر اخلاقی تربیت، بچوں کی نفسیات، اقدار، ترجمہ و اخذ، فطرت اور ماحول جیسے مختلف زاویوں سے قابلِ قدر کام ہو چکا ہے۔ زیرِ نظر مقالہ ان پہلوؤں کو ایک ساتھ دیکھتے ہوئے یہ جائزہ لیتا ہے کہ اقبال کی منتخب نظمیں بچے کی اخلاقی سمجھ، زبان، ذخیرۂ الفاظ، مشاہدے اور اپنے گرد موجود دنیا سے واقفیت میں کس طرح مدد دے سکتی ہیں۔ تحقیق کے لیے بانگ ِ درا کی سات نظموں: ’’ایک مکڑا اور مکھی‘‘، ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘، ’’ایک گائے اور بکری‘‘، ’’بچے کی دعا‘‘، ’’ہمدردی‘‘، ’’پرندے کی فریاد‘‘ اور ’’ماں کا خواب‘‘ کا متنی مطالعہ کیا گیا ہے۔ تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کردار، مکالمہ، جانوروں، پرندوں اور قدرتی مناظر کے ذریعے اخلاقی بات کو محض نصیحت کی صورت میں نہیں رکھتے بلکہ اسے ایک واقعے اور تجربے سے جوڑتے ہیں۔ یہ نظمیں اچھے اور برے، چھوٹے اور بڑے، آزادی اور قید، غرور اور خودداری، ہمدردی اور بے حسی جیسے بنیادی فرق بھی واضح کرتی ہیں۔ مقالے میں ان نظموں کی نصابی اہمیت کے ساتھ یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل ذرائع کو اصل متن کے متبادل کے بجائے اس کی تفہیم میں مددگار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
